بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل محسن رضائی نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران صہیونی وزیراعظم، بنیامین نیتن یاہو، کو جہنم رسید کرے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل محسن رضائی نے المنار نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
• ہم ثابت کریں گے کہ نیتن یاہو کی بڑی غلطیاں صہیونی ریاست کو زوال و انحطاط کے قریب لے گئی ہیں۔
• تہران لبنان کی سلامتی کو مغربی ایشیا کے پورے خطے کی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے، اور ہم لبنان، غزہ اور شام کے خلاف جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
• ہم خبردار کرتے ہیں کہ ایک خطے میں تناؤ کا جاری رہنا سیاسی، معاشی اور سیکورٹی اعتبار سے تمام علاقائی ممالک کو متاثر کر سکتا ہے۔
• حزب اللہ لبنان میں شیخ نعیم قاسم کی دانشمندانہ اور حکیمانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
• مغربی ایشیا کے مختلف محاذوں بالخصوص لبنان میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیل کی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپائی، اور غزہ جنگ کا خاتمہ، امریکہ کے ساتھ ایران کے کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرائط ہیں۔
• علاقائی ممالک ایک دوسرے سے جڑی زنجیر کے حلقے ہیں، ایسی زنجیر جس میں کسی بھی ملک میں عدم تحفظ سرمایہ کاری کے اخراجات میں اضافے اور دوسرے ممالک میں ترقی کے مواقع کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
بیروت کا جنوبی ضاحیہ ایران کی سرخ لکیر ہے
• فوجی صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل اب بیروت کے جنوبی ضاحیہ یا بیروت کی طرف پیشقدمی کرنے کے قابل نہیں رہا؛ کیونکہ حزب اللہ نے گزشتہ تین یا چار مہینوں میں اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور ایران کی دھمکیوں کا بھی اثر بھی مکمل طور پر دکھائی دے رہا ہے۔
• جنوبی ضاحیہ اور بیروت ایران کی سرخ لکیر ہے، تہران پوری سنجیدگی سے صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔ اسرائیل کو لبنان سے پسپائی اختیار کرنا ہی پڑے گی۔
• لبنان کے خلاف صہیونی جنگ میں شام کی مداخلت ممکن نہیں ہے؛ شامی حکومت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ دمشق اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر اسرائیل کے مسلسل حملوں نے ایسے قواعد بنانے کے مواقع کو کمزور کر دیا ہے۔
• شامی حکومت بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے کا پابند نہیں ہے۔
• حزب اللہ اپنی فیصلہ سازیوں میں خودمختار ہے، ایران حزب اللہ کی فوجی ساخت (اور ڈھانچے) یا میدانی فیصلوں کی تفصیلات میں مداخلت نہیں کرتا۔ حزب اللہ کے پاس اپنا فوجی ڈھانچہ موجود ہے جو اپنے معاملات کے انتظام و انصرام اور فیصلہ سازی کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران کی شرائط پر امریکہ کے عملدرآمد کے بعد کھلے گی
• ایران جنگ کا خواہاں نہیں، مگر خود کو ایک نئے مرحلے کے لئے تیار کر رہا ہے؛ اور خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی بھی جنگ پچھلی جنگوں سے مختلف ہوگی۔
• ایران نے جنگ کے مراحل کو بتدریج منظم کرکے آگے بڑھایا ہے۔ خلیج فارس کی ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ نہ بنانے کا عمل پچھلے مراحل میں شروع ہؤا۔ پھر ایران نے جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع تر کرکے دوسرے ممالک میں امریکی اڈوں کو اپنے جنگی اہداف میں شامل کر لیا۔ ان بتدریج ـ بڑھتے ہوئے حملوں میں ـ انسانی پہلوؤں کا پورا پورا خیال رکھا گیا تاکہ ایران کی فتوحات کو خطے اور دنیا میں، ـ جائز اور قانونی حدود کے اندر ـ سمجھا جا سکے۔
• ایران کا خلاف ٹرمپ کا معاشی دباؤ کی طرف دوبارہ رجوع، فوجی آپشن کی ناکامی کا ضمنی اعتراف ہے اور ہم خبردار کرتے ہیں کہ تہران کسی بھی معاشی تناؤ کا جواب ایسے اقدامات سے دے گا جو خطے میں امریکی معاشی مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔
• آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ایران کی شرائط پر امریکہ کے مکمل عملدرآمد سے مشروط ہے: ان شرائط میں سرفہرست 'مغربی ایشیا بالخصوص لبنان اور غزہ میں جنگوں کا مکمل خاتمہ' ہے۔
• ایران نے اپنی شرائط کی فہرست امریکیوں کو منتقل کرنے کے لئے تیار کر لی ہے، اور فی الحال آبنائے کے درمیانی روٹ پر جہازوں آمد و رفت کے لئے ایک عارضی اور مخصوص راستے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ اس میں مستقبل کی جہازرانی کا انحصار واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت نامے پر ہو، جس پر کہ واشنگٹن کو عمل کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ